مسیحیوں کو تخلیق کے تعلق سے کئی ملین سال کیوں نہیں قبول کرنے چاہییں؟

by on ; last featured جون 3, 2015
Also available in 中文 and English
Share:

زمین کی عمر کے تعلق سے پوری دُنیا کی کلیسیاؤں میں ایک شدید قسم کی اختلافِ رائے پائی جاتی ہے۔ کلیسیائی تاریخ کی پہلی 18صدیوں کے دوران تقریباََ تمام مسیحیوں کا عالمگیر عقیدہ یہی تھا کہ خُدا نے 6حقیقی دنوں میں یسوع کی پہلی آمد سے قریباََ 4000سال پہلے دُنیا کو تخلیق کیا اور نوحؔ کے زمانے میں عالمگیر طوفان کے ذریعے سے دُنیا کو تباہ کیا۔ لیکن قریباََ 200سال قبل کچھ سائنسدانوں نے زمین کی تاریخ کے حوالے سے نئے نظریات پیش کئے جو یہ تجویز کرتے ہیں کی یہ دُنیا اور کائنات کئی ملین سال پرانی ہیں۔ گزشتہ 200سالوں کے دوران بہت سارے مسیحی رہنماؤں نے کئی ملین سالوں کے نظریے اور بائبل مُقدس میں موافقت پیدا کرنے کے لئے کئی طرح کی کوششیں کی ہیں۔ اُن کی اِن کوششوں کی بدولت منظر عام پر آنے والے نئے نظریات کچھ یوں ہیں ، ہر دن بطور دَور کا نظریہ؛ گیپ تھیوری [پیدایش کی کتاب کی پہلی آیت میں کامل ابتدائی تخلیق کے بعد کئی ملین سالوں کا وقفہ، زمین کی تباہی اور پھر دوبارہ سے تخلیق کا عمل بمطابق پیدایش 1اور 2ابواب]؛ طوفانِ نوح کے علاقائی ہونے کا نظریہ؛ بنیادی ساخت یا ڈھانچے کا مفروضہ؛ الہیاتی ارتقاء اور ترقی پذیر تخلیق وغیرہ۔

مکمل آرٹیکل کے مطالعہ کے لئے یہاں پر کلک کیجئے