کیا واقعی انسانوں کی مختلف نسلیں موجود ہیں؟

by on
Also available in 中文, 日本語, and English
Share:

1800عیسوی میں ڈاروّن کے نظریے کے مقبول ہونے سے پہلے بہت سارے لوگ جب نسلوں کی بات کرتے تھے تو اکثر انسانوں کے مختلف گروہوں کو اِس طرح سے بیان کرتے تھے "انگریزی نسل" آئرش نسل" وغیرہ وغیرہ ۔

بائبل جب لوگوں کی بات کرتی ہے تو وہ کبھی بھی لفظ نسل کا استعمال تک نہیں کرتی۔ ہاں اگرچہ بائبل یہ بیان ضرور کرتی ہے کہ خُدا نے ایک ہی اصل [ایک ہی خون] سے ایک قوم تمام روئے زمین پر رہنے کے لیے تیار کی (اعمال 1۔7باب26 آیت) یہ چیز اِس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ ہم سب باہمی طور پر رشتے دار ہیں اور ہم سب ایک ہی شخص یعنی آدم کی اولاد ہیں (1 کرنتھیوں 15باب 45 آیت) ، جسے خُدا نے اپنی شبیہ پر تخلیق کیا تھا(پیدایش 1باب26-27 آیات)۔ پچھلا آدم یسوع (1 کرنتھیوں 15باب 45 آیت) بھی آدم ہی کی نسل میں سے آیا۔ آدم کی اولاد میں سے کوئی بھی شخص نجات پا سکتا ہے کیونکہ ہم خونی رشتے دار ہیں اور یسوع نے اپنا خون بہایا اور پھر موت پر فتح پا کر جی اُٹھا۔ یہی وجہ ہے کہ انجیل کی انسان کے سب قبیلوں میں منادی کی جا سکتی ہے اور کی جانی چاہیے۔

مکمل آرٹیکل کے مطالعہ کے لئے یہاں پر کلک کیجئے

Help Translate

Please help us provide more material in Urdu.

Help Translate

Visit our English website.