کیا علم ِ آثارِ قدیمہ بائبل حقانیت کو ثابت کرتا ہے؟

by on
Also available in English, Español, and 中文
Share:

یہ بائبلی اصول ہے کہ کسی بھی معاملے کے درست فیصلے کے لئے دو یا تین گواہوں کی گواہی کا پیش کیا جانا ضروری ہے ۔ یہودی شریعت کے مطابق جب تک کسی شخص کے بارے مناسب گواہی نہ ملتی اُسے کسی طور پر مجرم نہیں قرار دیا جا سکتا تھا، اگرچہ مسیح پر جب مقدمہ چلا تو اس اصول کو پس پشت ڈال دیا گیا تھا۔

جب ہم خُدا کے کلام کی بات کرتے ہیں تو علم آثار قدیمہ کے تعلق سے جدید سائنس ایسے ہی اصول کا مظاہرہ کرتی ہے ۔ ہمیں زبور 85 کی 11 آیت میں بتایا گیا ہے کہ ''راستی زمین سے نکلتی ہے ۔۔۔۔۔'' اور زبور 119 کی 89 آیت میں لکھا ہے کہ '' اے خُداوند ! تیرا کلام آسمان پر ابد تک قائم ہے ۔ '' خُدا کا کلام حتمی ہے ۔ انسانی نسلیں گزرتی چلی جاتی ہیں لیکن خُدا کا کلام ہمیشہ یکساں طور پر قائم و دائم ہے ، اور خُدا اپنے مقرر کردہ وقت پر اپنے کلام کی حقانیت کو ثابت کرتے ہوئے اُسکی تصدیق کرتا ہے ۔ یہ بات خُدا کے کلام کو ایک انمول زمرے میں شامل کر دیتی ہے : یہ انسان اور خُدا کے درمیان دو طرفہ گفتگو کا دوسرا پہلو ہے ۔ انسان کا کلام اُسے دیگر تمام جانوروں کے درمیان خاص اور امتیازی حیثیت کا حامل بناتا ہے اور خُدا کا بائبل کی صورت میں تحریر ہونے والا کلام جو کہ انسان کے ساتھ اُس کی خاص گفتگو ہے اپنے آپ کو دوسرے تمام نام نہاد مکاشفہ جات سے بے انتہا برتر ثابت کرتا ہے ۔

مکمل آرٹیکل کے مطالعہ کے لئے یہاں پر کلک کیجئے