ہم تخلیق کے متعلق انجیلی پیغام پھیلانے کے لئے ڈائنوساروں کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟

by on
Also available in English and 中文
Share:

جب بچّوں، نوجوانوں اور بوڑھوں کو ڈائنوساروں کے بارے میں سچائی سے آگاہ کیا جاتا ہے تو وہ تشکیک پرست دُنیا کے سوالات کے جواب دے سکتے ہیں اور انجیل مقُدس کی سچائی کو بھی پھیلا سکتے ہیں۔

ڈائنوسار سب سے زیادہ مسحور کن جانوروں میں سے ہیں اور بالخصوص بچّوں کو سب سے زیادہ حیرت زدہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ارتقاء کے حامی عام لوگوں کو کئی ملین سالوں کے نظریے اور ارتقاء کی تعلیم دینے کے لئے اِنہیں بار بار استعمال کرتے ہیں۔ مسیحیوں کو بہرحال یہ چاہیے کہ وہ اِس کائنات کی حقیقی تاریخ کے بارے میں لوگوں کو سکھانے کے لئے ڈائنوساروں کو استعمال کریں۔ جب بچّوں، نوجوانوں اور بوڑھوں کو ڈائنوساروں کے بارے میں سچائی سے آگاہ کیا جاتا ہے تو وہ تشکیک پرست دُنیاکے سوالات کے جواب دے سکتے ہیں اور انجیل مقُدس کی سچائی کو بھی پھیلا سکتے ہیں۔ جب ڈائنوساروں کو انجیل کی منادی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ "مشنری چھپکلیاں "بن جاتی ہیں۔

تخلیق کا ثبوت

نظریہ ارتقاء کے مطابق کئی ملین سال پہلے ڈائنوسار اِس زمین پر چلتے پھرتے تھے اور وہ دوسرے مختلف قسم کے جانوروں سے ارتقاء پذیر ہوئے تھے۔ لیکن ڈائنوساروں کی ابتدا اور اِنکی تاریخ کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے؟پیدایش 1باب 24-31آیات کے مطابق ہم یہ سیکھتے ہیں کہ ڈائنوسار چھٹے دن تخلیق کئے گئے تھے، یہ وہی دن تھا جب خُدا نے خشکی پر رہنے اور سانس لینے والے سب جانوروں کو تخلیق کیا تھا اور ساتھ ہی پہلے آدمی اور عورت کو بھی تخلیق کیا تھا۔ ڈائنوسار کسی بھی دوسرے جانور سے ارتقاء پذیر نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی کوئی دوسرا جانور ڈائنوساروں سے ارتقاء پذیر ہوا تھا ۔ خُدا نے اُن کی اصل نسل کو خود تخلیق کیا تھا اور پھروہ اپنی نسل کو اپنی ہی جنس کے مطابق بڑھاتے ہوئے بڑھتے اور پھلتے پھولتے گئے۔

جب سائنسدانوں نے ڈائنوساروں کا مطالعہ کیا تو ہمیں معلوم ہواکہ اُنہیں دو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: سورِسکیئن(چھپکلی نما) اور اورِنیتھس کئین(پرندہ نما)۔ سورِسکیئن ڈائنوساروں میں کولہے کی ہڈی اور پیڑو کی ہڈیاں کولہے یا کوکھ کے نیچے دو شاخہ ہو جاتی ہیں۔ ڈائنوساروں کے اِس گروہ میں بڑے ساروپوڈزجیسے کہ اپاٹوسارس اور ڈپلوڈوکس شامل ہیں ۔اورِنیتھس کئین ڈائنوساروں میں کولہے کی ہڈی اور پیڑوں کی ہڈی کوکھ کے نیچے پہلو بہ پہلو ہوتی ہیں۔ اورِنیتھس کئین ڈائنوساروں میں سٹیگوسورس، ٹرائی سیرا ٹوپس اور بط بلاؤ کی طرح کے ہیڈروسورس ڈائنوسار شامل ہیں۔ ڈائنوساروں کے یہ دونوں گروہ ڈائنوسار ہی ہیں اگرچہ یہ ایک دوسرے سے بہت سے معاملات میں مختلف ہیں۔ خُدا نے ڈائنوساروں کی بہت ساری اقسام کو کئی ایک انواع کے طور پر تخلیق کیا۔ یہ انواع چند بہت ہی مشہور ڈائنوساروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

مشہور ڈائنوسار

سائنسدانوں نے ڈائنوساروں کی 300 سے زیادہ انواع کی درجہ بندی کی ہوئی ہے، لیکن اِس کا یہ خلاصہ کرنا بجا ہوگا کہ مختلف حجم، اقسام اور جنس کی وجہ سے ایک ہی قسم کے ڈائنوساروں کو مختلف نام دئیے گئے ہیں۔ حقیقت میں ڈائنوساروں کی 50 یا اِس سے بھی کم اقسام ہونگی جنہیں خُدا نے تخلیقی ہفتے کے چھٹے دن تخلیق کیا تھا۔ ذیل میں کچھ بہت ہی جانے پہچانے اور مقبول عام ڈائنوساروں اور اُن کی کچھ دلچسپ خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے۔

  1. سٹیگوسورس:-"چھت والی چھپکلی"۔ 30 فٹ(9 میٹر) لمبا۔ وزن 2-4ٹن(1.8-3.6میٹرک ٹن)شمالی امریکہ میں پایا جاتا تھا،گروہ : اورِنیتھسکیہ۔

  2. کسی دور میں یہ خیال کیا جاتا تھا کی سٹیگوسورس کی کمر پر پائی جانے والی پلیٹوں کی قطاریں اُس کے دفاع کے لئے تھیں۔ ابھی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ پلیٹیں شمسی پینل کا کام کرتی تھیں۔ وہ پلیٹیں پتلی اور خون کی وریدوں سے بھری ہوئی تھیں۔ یہ پلیٹیں اِس ڈائنوسار کی جلد کیساتھ جڑی ہوئی تھیں لیکن کمر اور دم کی ہڈی کا حصہ نہیں تھیں۔ سٹیگوسورس کی گردن، پیٹھ اور دم مزید ہڈی نما میخ جیسی کسی چیز کی وجہ سے اور زیادہ محفوظ کی گئیں تھیں۔ اُسکی دم لچکدار تھی اور کم از کم چار سینگوں جیسے ہتھیاروں سے لیس تھی۔

  3. بریکیوسورس:-"مسلح چھپکلی"۔ 80 فٹ(24 میٹر) لمبا۔ وزن 50 ٹن(45 میٹرک ٹن)۔امریکہ ، یورپ اور افریقہ میں پایا جاتا تھا۔ گروہ: سورِسکئیہ

  4. کھڑے ہونے پربریکیوسورس 37 فٹ (24 میٹر) اونچا ہوتا تھا، یہ اونچائی زرافے کی اونچائی سے دگنی ہوتی ہے۔ آجکل سائنسدانوں کے ذہنوں میں یہ سوال ہے کہ آیا یہ ڈائنوسار اپنی گردن کو بالکل سیدھی کھڑی کرنے کے قابل تھا یا نہیں۔ بریکیوسورس کی اگلی ٹانگیں بہت لمبی ہوتی تھیں جس کی وجہ سے اُسکی جسمامت میں واضح ڈھلوان دیکھی جا سکتی تھی۔ یہ دیو قامت ڈائنوسار اِس زمین پر چلنے پھرنے والے بڑے ترین جانداروں میں سے تھے۔

  5. اینکلوسورس:-"چکنے ترشوں والی چھپکلی"33 فٹ (10 میٹر) لمبا۔وزن 4 ٹن (3.6 میٹرک ٹن)ایشیاء، شمانی امریکہ،یورپ اور جنوبی امریکہ میں پایا جاتا تھا۔ گروہ : اورِنیتھسکیہ

    اینکلوسارنامی ڈائنوساروں میں اینکلوسورس سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ اِس ڈائنوسار کی دم کے اختتام پر ہتھوڑے نما چیز کا وزن قریباََ 100 پونڈ(45 کلوگرام) ہوا کرتا تھا۔ یہ جانور ایسے ہی تھا جیسے کوئی مردِ میدان سورما زرہ بکتر پہنے ہوئے ہو۔ اِس کا سار اجسم سینگ نما دفاعی بکتر کی سی چیز سے ڈھکا ہوا تھا، حتٰی کی اِس کی آنکھوں کے پپوٹوں پر بھی دفاعی بالا پوش سے بنے ہوئے تھے۔

  6. ٹرائسیرا ٹوپس:- "تین سینگوں والا چہرہ" 30 فٹ(9 میٹر) لمبا، وزن6 ٹن(5.4 میٹرک ٹن)، شمالی امریکہ میں پایا جاتا تھا۔ گروہ : اورِنیتھسکئیہ

    ٹرائسیراٹوپس چھوٹی جھالر والا سیراٹوپسین ڈائنوسار تھا۔ اِس کے دو بھورے سینگ تھے جو تین فٹ(1میٹر) تک لمبے ہوتے تھے۔ اُس کی ناک کے اوپر والا سینگ کافی چھوٹا ہوتا تھا۔ اُس کی گردن کے گرد جھالر کے کناروں پر بھی سینگ نما ہڈیوں کی ایک قطار بنی ہوئی تھی۔ اُس کی گردن کی جھالر مکمل طور پر ہڈی کی بنی ہوئی تھی۔ ٹرائسیراٹوپس تمام ڈائنوساروں میں سے سب سے زیادہ بھاری بھر کم اور جسیم تھا۔

  7. کومپسوگ نیتھس:-"خوبصورت جبڑا"3-4 فٹ(1-1.2 میٹر) لمبا، وزن 5 پونڈ(2 کلو)، مغربی یورپ میں پایا جاتا تھا۔ گروہ: سورسکئیہ

    کومپسوگ نیتھس چھوٹے ڈائنوساروں میں سے ایک تھا، اُسکی جسامت مرغی کے برابر ہوتی تھی۔ اُسکی کھوپڑی نازک تھی اور اُس کا جبڑا دیکھنے میں کمزور لگتا تھا۔ کھوپڑی اور جبڑے کے اوپر چھوٹے خم دار دانت تھے۔اُس کا دبلا پتلا جسم ایک لمبی دم کو سہارا دیتا تھا جسےوہ توازن برقرار رکھنے کے لئے استعمال کرتا تھا۔

  8. ٹرائیرینوسورس ریکس:-"ظالم/جابر چھپکلی"40 فٹ(12 میٹر) لمبا، وزن7ٹن(6.4میٹرک ٹن)،شمالی امریکہ میں پایا جاتا تھا۔ گروہ : سورسکئیہ

    یہ سب سے زیادہ مشہور اور جانا پہچانا ڈائنوسار ہے۔ ٹی ریکس کے جبڑوں کے 7 انچ(18سینٹی میٹر) لمبے دانتوں کے علاوہ 50-60دانت ہوتے تھے۔اُس کے دانت خم دار، آری نما اور بہت ہی زیادہ مضبوط ہوتے تھے۔ اگر اُس کا کوئی دانت ٹوٹ جاتا تو اُسکی جگہ پر نیا دانت اُگ آتا تھا۔ اُس کا نیچے والا جبڑا کافی لچکدار تھا جسکی وجہ سے وہ بہت زیادہ خوراک کو ایک ہی بار میں کھا سکتا تھا۔ ایک ٹی ریکس کی کھوپڑی 5 فٹ (1.5 میٹر) لمبی ہوتی تھی۔ اور وہ سائنسدان جنہوں نے اِس ڈائنوسار کے سی اے ٹی سکین کا مطالعہ کیا ہے یہ مانتے ہیں کہ ٹی ریکس کی سونگھنے اور سننے کی حس بہت ہی تیز ہوا کرتی تھی۔

    ٹی ریکس کے بازو بہت چھوٹے تھے، یہ عام انسان کے بازوؤں سے زیادہ لمبے نہیں تھے۔ وہ دیکھنے میں کافی زیادہ مضبوط پٹھوں کے بنے ہوئے لگتے تھے اور کسی ویٹ لفٹر کے مضبوط بازوؤں کی مانند نظر آتے تھے۔ اِس بارے میں ابھی تک کسی کو معلوم نہیں کہ ٹی ریکس اپنے اُن بازوؤں کو استعمال کیسے کرتا تھا۔

  9. ویلوسائی ریپٹر:-"تیز اور پھرتیلا شکاری"6.6فٹ(2 میٹر) لمبا، وزن 35 پونڈ(16 کلوگرام)، منگولیا چائنہ میں پایا جاتا تھا۔ گروہ سورسکئیہ

    ویلوسائی ریپٹر ڈائنوساروں کے ڈرومیوسار نامی خاندان میں سے تھے۔ کسی شکاری پرندے کی طرح اِس کے دونوں ہاتھوں کے آگے درانتی جیسے پنجے تھے۔ اس کے منہ کے اندرچھریوں جیسے تیز دانت بھی ہوتے تھے۔

فوسل

جہاں تک ہم جانتے ہیں ڈائنوسارمعدوم ہو چکےہیں ابھی صرف اُن کے فوسل موجود ہیں جن کا سائنسدان مطالعہ کرتے ہیں۔ ڈائنوساروں کے فوسلوں کی باقیات زمین پر تمام کے تمام براعظموں میں سے ملی ہیں۔ روبرٹ پلاٹ نے 1676 میں اپنی کتاب Natural History of Oxfordکے اندر ڈائنوساروں کی سب سے پہلے ملنے والی ہڈیوں کے بارے میں بیان کیا ہے۔ جو ہڈی اُس نے دریافت کی تھی اب کھو چکی ہے، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ میگالوسورس کی ران کی ہڈی تھی۔

سب سے پہلے ملنے والا ڈائنوسار کا مکمل فوسل آئیگوانوڈان کا تھا۔1878میں اِسی ڈائنوسار کےبیلجیم کی کوئلے کی ایک کان میں سےتیس سے زیادہ فوسل اِسی ڈائنوسار کے ملے تھے۔ہڈیاں جوڑ کر نمائش کے لئے تیار کیا جانے والا پہلا مکمل ڈھانچہ ہیڈروسورس نامی ڈائنوسار کا تھا۔ یہ 1850میں ہوڈنفیلڈ، نیو جرسی میں دریافت کیا گیا تھا، اور ابھی تک فلدیفیہ، پنسلوانیا کے اندر نیچرل سائنس کی اکیڈمی میں نمائش کے لئے رکھا ہوا ہے۔

اب چونکہ سائنسدان ڈائنوساروں کے صرف فوسلوں کا مطالعہ کرتے ہیں (نہ کہ اصل نمونوں کا)، اور چونکہ فوسل تو مرُدہ جانوں کی ہڈیاں ہوتی ہیں، پس مسیحی ڈائنوسار کو موت کی حقیقت اور اُس کے آغاز کے بارے میں بیان کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ جس وقت خُدا نے ہر ایک چیز بشمول ڈائنوساروں کے تخلیق کی تو اُس نے اپنے ہاتھ کی اُس ساری تخلیق کو "بہت اچھا" قرار دیا (پیدایش 1باب 31آیت)۔ موت اُس وقت تک اِس دُنیا یا کائنات کا حصہ نہ تھی جب تک آدم نے نافرمانی کرتے ہوئے نیک وبد کی پہچان کے درخت میں سے پھل نہ کھایا تھا۔ جس وقت آدم نے خُدا کی نافرمانی کی، اُس کے گناہ کی وجہ سے ساری زمین لعنتی ہو گئی(پیدایش 3باب 14-19آیات)۔ رومیوں 8باب 22آیت بیان کرتی ہے کہ "کیونکہ ہم کو معلوم ہے کہ ساری مخلوقات ملکر اب تک کراہتی ہے اور دردِزہ میں پڑی تڑپتی ہے۔"مخلوقات ابھی لعنت کی وجہ سے کراہتی ہیں اور خُدا کی تمام تخلیق کی ہر ایک چیز کو موت متاثر کرتی ہے۔

طوفانِ نوح اور عہد یخ

مسیحی ڈائنوساروں کواستعمال کرتے ہوئے عالمگیر طوفان کے بارے میں بھی بات چیت کر سکتے ہیں جو نوح کے دور میں آیا تھا۔ ڈائنوساروں کی معدومی کی ایک وجہ یہ عالمگیر طوفان بھی ہو سکتا ہے۔ طوفان سے پہلے ڈائنوسار بڑی آزادی کے ساتھ اِس زمین پر چلتے پھرتے تھے۔طوفان کے دوران بہت سارے ایسے جاندار اور انسان تلچھٹ میں دب گئے تھے جو بعد میں ٹھوس شکل اختیار کر گیا اور اُس نے ہمیں وہ تمام کے تمام فوسل دئیے ہیں جن کا مطالعہ آج یہ سائنسدان کرتے ہیں۔

طوفان کی وجہ سے زمین کی روئیدگی میں بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی آئی تھی، جس کی وجہ سے زمین پر شاید اتنی زیادہ تبدیلیا ں آئیں کہ اُ س سخت موسم اور ماحول میں بہت سارے ڈائنوسار اپنا وجود قائم نہ رکھ سکے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنے کے ضرورت ہے کہ ڈائنوسار نوؔح کی کشتی پر بھی سوار تھے بائبل مقدس ہمیں پیدایش 6 باب 19 آیت میں اور پیدایش 7 باب 2-9آیات میں بتاتی ہے کہ خشکی پر کے جانداروں میں سے جن کے نتھنوں میں زندگی کا دم تھادو دو جوڑے (بعض کے سات سات جوڑے) کشتی پر سوار کئے گئے تھے۔ جس پر نوح ، اُسکی بیوی ، اُسکے بیٹے اور اُن کی بیویاں بھی سوار تھیں۔ پس پھر اِن دیو ہیکل جانوروں کے ساتھ کیا ہوا؟

طوفان کے بعد یہ ڈائنوسار غالباََ کئی ایک وجوہات کی وجہ سے معدوم ہوئے ہونگے، بالکل اُسی طرح سے جیسے آجکل کے دور میں بھی جانوروں کی کئی نسلیں معدوم ہو رہی ہیں۔طوفان کی وجہ سے زمین کی روئیدگی میں بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی آئی تھی، جس کی وجہ سے زمین پر شاید اتنی زیادہ تبدیلیا ں آئیں کہ اُ س سخت موسم اور ماحول میں بہت سارے ڈائنوسار اپنا وجود قائم نہ رکھ سکے۔طوفان کے بعد آنے والے عہد یخ نے بھی یقیناََان کے معدوم ہونے میں کافی بڑا کردار ادا کیا ہوگا۔

عہد یخ کے بعد کچھ ڈائنوسار جو باقی بچے رہےاُنہیں لوگ ڈریگن کے نام سے یاد کرتے ہیں جن میں سے زیادہ تر مر گئے یا مار دئیے گئے تھے۔ اُن کی معدومیت کی دیگر وجوہات فاقہ کشی ، بیماریاں اور شکار کا دباؤہو سکتا ہے۔

خلاصہ

ڈائنوسار اور وہ سچائیاں جو وہ خدا کی تخلیق کے بارے میں بیان کرتے ہیں جیسے کہ انسان کا گناہ، موت، طوفانِ نوح اور عہد یخ کو تمام بزرگ اور نوجوان مسیحی غیر ایمانداروں کے ساتھ انجیل کی خوشخبری بانٹنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ مشنری چھکلیاں کلام کی حقانیت اور معتبریت کو ثابت کرتی ہیں اور اُنہیں بطور طاقتور آلہ کارنجات کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کے لئے جو ہر ایک مسیحی کی زندگی کا حتمی مقصد ہےاستعمال کیا جانا چاہیے۔ جب غیر مسیحی ڈائنوساروں کے حوالے سے بائبلی تصورات کے بارے میں جان پاتے ہیں تواُن میں سے بہت سارے لوگ اِس بات پر قائل ہوئے ہیں اور قائل ہونگے بھی کہ وہ بائبل کے باقی پیغام کو بھی دھیان کے ساتھ سنیں۔ ہم خُدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اِن مشنری چھپکلیوں کی تاریخ کے حقیقی بیان کی وجہ سے بہت ساری روحیں مسیح کے لئے جیتی جا چکی ہیں۔